اب پچھتاوے کیا ہوت

Home/Life/اب پچھتاوے کیا ہوت

اب پچھتاوے کیا ہوت

وہ بچہ تھا کسی نے اسے ایک زنجیر دے دی۔ جب دل چاہے کھینچ دینا وقت آگے بڑھ جائے گا مگر پھر واپس لوٹنے کا کوئی راستہ نہیں۔

بچہ نے دیکھا کہ وہ تو بس روتا اور دودھ پیتا رہتا ہے مگر اس کے بہن بھائی کھلونوں سے کھیلتے بھی ہیں اور صرف چلتے پھرتے ہی نہیں بلکہ بھاگتے دوڑتے بھی ہیں۔ اس نے رسی کھینچ دی۔

وقت آگے بڑھ گیا۔

کچھ دن تو مزے رہے مگر ایک دن سائیکل سے گر کر چوٹ لگی تو غصے میں آکر پھر زنجیر کھینچ دی۔ اب جوانی کی دہلیز تھی اور ستاروں کا موسم۔ مگر اک ذرا خواب ٹوٹے تو پھر وہی زنجیز یاد آگئی۔ وقت آگے بڑھ گیا

اب منظر تھا شادی اور بچوں کا مگر ایک نوکری بھی تھی۔ اس جہد مسلسل کو کچھ دن جھیلنے کے بعد اس نے پھر زنجیر کا سہارا لیا اور وقت کو آگے بڑھنے کی دعوت دی۔

اب وہ ایک ریٹائرڈ شخص تھا جو ایک جھیل کے کنارے درخت کے سائے تلے، بینچ پر بڑے ہی مزے سے بیٹھا پرندوں کی میٹھی آوازوں سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کر رہا تھا مگر ایک بات اسے بہت تنگ کر رہی تھی کہ زندگی تو اس جدوجہد کا نام تھا جس سے بچتے ہوئے وہ یہاں تک آ نپہنچا۔

جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

 

2019-08-07T21:41:46+00:00 Life|