ایوب بھائی

Home/Life/ایوب بھائی

ایوب بھائی

کزن ہیں۔ عمر میں بڑے ہیں۔ بھائی بھی ہیں اور دوست بھی۔ نایاب لوگوں میں سے ایک ہیں۔ وہ لوگ جو جمع تفریق اور فائدہ نقصان کا ترازو کہیں رکھ کر بھول چکے۔ 

میڈیکل کالج کے دن تھے۔ سب بے حساب تھا، دوساتیاں ، محبتیں اور خرچے بھی۔ کالج سے آیا تو پتا چلا ایوب بھائی آئے ہوئے ہیں اور اوپر ابو جان کے پاس بیٹھے ہیں۔ اوپر گیا تو دونوں کسی بات پر بحث کر رہے تھے۔ شاید ابو جان قرض واپس مانگ رہے تھے اور ایوب بھائی وقت کا تقاضا کر رہے تھے۔ میں سلام کر کے نیچے آگیا۔ 

تھوڑی دیر بعد وہ نیچے اترے تو میں نے بتایا کہ کچھ پیسے چاہیئیں۔ پوچھا کتنے، تو میں نے بتادیا۔ کہنے لگے اتنے پاس تو نہیں۔ کل گھر آکر لے جائو۔ 

میں اگلے روز گیا تو سلام دعا کرتے کرتے کمرے میں لے گئے اور ایک بیگ نکال کر سامنے رکھ دیا اور یہ کہہ کر کمرے سے نکل گئے کہ جتنے دل چاہے لے لو۔ بیگ ہمیشہ یہیں پر رکھا ہوتا جب بھی ضرورت ہو آکر لے لینا اور جب بھی ہوں واپس رکھ جانا۔ دوبارہ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ 

وہ آج بھی زندگی اسی طور گزار رہے ہیں۔ ہر وقت ترازو اٹھا کر گھومنے والے انہیں بے وقوف سمجھتے ہیں اور ایوب بھائی جیسے لوگ دنیا پر ہنستے رہتے ہیں۔ 

نوٹ: بیٹا زندگی میں جو لوگ تمہیں ملیں گے وہ کسی نہ کسی حوالے سے ملیں گے۔ کوئی کسی کا رشتہ دار ہوگا تو کوئی کسی کا دوست۔ مگر کوشش کرنا کہ ہر ایک سے تمہارا اپنا رشتہ اور تعلق ہو۔ کسی سے دوستی اس لئیے مت چھوڑنا کہ یہ اب میرے دوست کا دوست یا رشتہ دار نہیں رہا۔ جن لوگوں کو دیکھو کہ اس بنا پر فیصلے کر رہے ہیں، ان سے ضرور بچنا کہ ان کی اپنی کوئی سوچ نہیں۔میں جب پہلی بار ملک جھوڑ رہا تھا تو دوستوں کی ایک بڑی تعداد الوداع کہنے آئی۔ میں نے ایک مضبوط اعصاب کے دوست سے کہا کہ میرے دو دوستوں کی داد رسی کرنا تو اس نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ میری دوستی تم سے ہے ان سے نہیں۔  دوسرے، زندگی میں کچھ لوگ ایوب بھائی جیسے ضرور رکھنا کہ زندگی میں خوبصورتی انہی لوگوں کی مرہون منت ہے۔

 

2018-10-06T01:26:56+00:00 Life|