بجو

Home/Life/بجو

بجو

دوست کی بڑی بہن تھیں، وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ سوچ اور اخلاق میں ان کا قد اور بھی بڑا تھا۔ ہم چھوٹے تھے۔ آج تک عمل کی گزرگاہوں میں بارہا ایسے گرنا ہوتا ہے، جیسے چلنا ہی نہیں سیکھا۔

ہم پڑھتے، گانے سنتے، گانا گانے کی کوشش کرتے، مختلف آلات موسیقی بجانے کی کوشش کرتے، کرکٹ کھیلتے، شیشے توڑتے، چھتیں پھلانگتے،سائیکل کرائے پر لے کر اس جگہ جاتے جہاں آج گلستان جوہر آباد ہے۔ 

بجو ہمیں حوصلہ بھی دیتیں اور بہت  سے چھوٹے بڑے گناہوں کا پردہ بھی ماں باپ سے رکھ لیتیں۔ 

بجو کی شادی کا وقت آیا۔ گھر والوں سے پیسے لے کر میں ان کے لیے تحفہ لینے گیا۔ لکڑی کی  مناسب نقش نگاری والی گھڑی پسند کی اور شادی سے پہلےہی تحفہ کر دی۔

بجو کی شادی ہوئی۔ وہ حیدرآباد چلی گئیں۔

ایک دن بعد ولیمہ کے لیئے حیدرآباد پہنچے۔ہال جانے سے پہلے ہم بجو کے گھر گئے۔ بجو نے ہمیں اپنا گھر دکھایا اور کچھ تحفے بھی جو وہ ساتھ لے کر آئیں تھیں ۔میری دی ہوئی گھڑی دیوار پر آویزاں تھی۔

ہم ولیمہ کی دعوت سے فارغ ہو کر ہنستے گاتے واپس آگئے مگر جو عزت بجو نے ہمیں دی وہ ایک نشان کی طرح کہیں ثبت ہو گئی۔

 چھوٹوں کو عزت دیں اور کوئی تحفہ دے توواپس وقت نکال کر اسے بتائیں کہ اس نے اپنی حیثیت میں جو بھی تحفہ دے کر آپ کو عزت دی ہےآپ اس کی قدر کرتے ہیں۔  ویسے بھی عزت اور محبت صرف خرچ کرنے سے ملتے ہیں۔

2018-06-05T00:54:28+00:00 Life|