جاوید بھائی

Home/Life/جاوید بھائی

جاوید بھائی

وہ انگلینڈ کے شہر نیوکاسل کےکامیاب بزنس مین تھے۔ انسان اتنے بڑے  کہ یہ بات اگر آپ کو نہ پتا ہو تو اس کا احساس ان کی کسی بات سے بھی نہیں ہوگا۔

کئی کاروبار سنبھالنے کے ساتھ سماجی سرگرمیوں میں بھی اپنا کردار ادا کرتے۔  مسجد کی ذمہ داریاں بھی نبھاتے، گھر والوں کو بھی وقت دیتے اور دوستوں کے لیئے بھی دل اور گھر کا دروازہ ہمیشہ کھلے رکھتے۔ وہ ان  لوگوں میں سے ہیں جن کیلیے سب آسان ہے۔

میں نے ان کے شہر میں صرف چند ماہ گزارے تھے کہ  جب نقارہ سفرپھر بجا۔ عشاء کے بعد ان کے گھر بیٹھے انھیں بتایا کہ جانا ہے۔روکنے لگے ۔میں نے انکار کیا تو کہنے لگے کہ اس شہر کے درمیان میں جو محل نما پرانے زمانے کا گھر مجھے پسند ہے وہ ان کا ہے اور اگر میں رکوں تو وہ خالی کروا کر مجھے دے دیں گے۔

میں نے ان سے پوچھا کے آخر ان میں ایسی کیا بات ہے کہ وہ اس قدر نوازے  گئے کہ نہ دنیا کی کمی نہ آخرت کی۔ کہنے لگےاور تو مجھے پتہ نہیں مگر دو نیکیاں میرا کل سرمایہ ہیں۔

 ایک، میرے والد صاحب بیمار تھے، میں ان کی خدمت کرتا تھا۔ میں تعلیم سے دور تھا، کھیتی کرتا تھا مگر میرا بھائی اکاؤنٹنٹ بن رہا تھا۔ وہ اکثر چپ کر کے سامنے سے گزر جاتا کہ کوئی کام اس سے کہا جائے تو پڑھائی کے وقت کا حرج نہ ہو۔ میرے والد صاحب اسے کچھ نہ کہتے مگر میں نے انھیں یہ کہتے ضرور سنا کہ اس کا امتحان  پاس نہیں ہونا۔ مجھے وہ دعا دیا کرتے تھے کہ اللہ کرے جس چیز کو تم ہاتھ لگاؤ وہ سونا بن جائے۔

والد صاحب دنیا سے چلے گئے،  میرے بھائی کا امتحان کبھی پاس نہیں ہوا۔  آخر اس نے یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یہ میرے باپ کی بد دعا ہے۔ میں شادی کرکے یہاں انگلینڈ آ گیا، میرے سسرال والوں نے چاہا کہ میں انکے کام میں ہاتھ بٹاؤں مگر میں کچھ اپنا کرنا چاہتا تھا۔ انگلش نہیں آتی تھی مگر کاروبار  کا شوق تھا، میری بیوی نے میرا ساتھ دیا اور میں نے اپنا کچھ کام شروع کردیا، پھر وہ ہوا جو والد صاحب رب سے مانگا کرتے تھے ، میں نے جس چیز کو ہاتھ لگایا وہ اللہ کے فضل سے سونا بن گئی۔

وہ کسی ماضی کی تصویر میں گم ہوئے تو میں نے پوچھا اور دوسری نیکی؟

کہنے لگے میں ایک دن جمعہ پڑھنے گیا،  تو میری ایک جیب میں اسٹور کا سامان خریدنے کے پیسے تھےاور دوسری جیب میں مسجد کے لیے کچھ تھوڑے بہت پیسے ڈال رکھے تھے۔  جب برتن سامنے آیا تو میرا ہاتھ بے دھیانی میں اس جیب میں  چلا گیا جس میں اسٹور کی خریداری کے پیسے تھے۔ پیسے زیادہ تھے اس لیئے میں نے ہاتھ نکال کر دوسری جیب میں ہاتھ ڈالا مگرپھر مجھے اپنے آپ سے بہت شرم آئی اور میں نے واپس پہلی جیب میں ہاتھ ڈالا اور سارے پیسے نکال کر مسجد کے برتن میں ڈال دیے۔ یہ تھی میری دوسری نیکی۔

میں نے شہر تو چھوڑ دیا مگر جاوید بھائی سے محبت اور احترام کا رشتہ آج بھی قائم ہے۔

2018-06-05T00:55:05+00:00 Life|