خواہش ۔ ذرا سی

Home/Life/خواہش ۔ ذرا سی

خواہش ۔ ذرا سی

یہ کہانی مجھے ہارٹ سرجری کی پہلی جاب کے دنوں میں لیورپول، انگلینڈ میں ساتھ کام کرنے والے ایک ساتھی نے اس وقت سنائی جب اسے کسی چیز کی ضرورت تھی مگر اس کے باوجود اس نے میری مدد کی پیش کش ٹھکرا دی۔ اس کی وجہ اس نے یہ کہا نی بتا ئی جو اس نے کبھی کہیں پڑھی تھی۔

ایک غریب لڑکی کی شادی تھی۔ وہ ان دنوں کالج میں پڑہتی تھی۔ اسے اپنی ایک امیر دوست کا ہیروں کا ہار بہت پسند تھا جو وہ کبھی کبھی کالج پہن کر آتی تھی۔ اس نے اپنی دوست کو شادی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اپنی ایک چھوٹی سی خواہش کا اظہار بھی کر دیا۔ وہ اس کا ہیروں والا ہار شادی والے دن پہننا چاہتی تھی۔ دوست نے حامی بھر لی۔

اس لڑکی نے شادی کے دن وہ مستعار کیا ہوا ہار پہنا۔ سب ٹھیک تھا مگر شادی کے اگلے دن وہ ہار گم ہو گیا۔ بہت ڈھونڈا۔ نہیں ملا۔

لڑکی نے اپنے شوہر کے ساتھ مل کر یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہار کے گم ہونے کے بارے میں اس کی دوست کو نہیں بتائیں گے۔ انہوں نے اس ہی طرح کا ایک ہار قرض لے کر اس دوست کو واپس کر دیا۔

ہار کیوں کہ کافی مہنگا تھا اس لیئے انہوں نے قرض اتارنے کی غرض سے شادی کے تمام تحفے بیچ دئیے۔ ہنی مون پر جا نے کی بجائے  دو دو نوکریاں شروع کردیں۔ کچھ عرصہ بعد جھگڑے شروع ہو گئے۔ شوہر چھوڑ کر چلا گیا۔ یہ اکیلے ہی قرض اتارتی رہی۔

زندگی کے شب و روز لمحہ لمحہ کرتے گزرتے رہے۔ جوانی کی تیز دھوپ خاموشی سے بڑھاپے کی شام کے آنگن میں اترگئی۔

ایک دن بازار میں کہیں پھر سے جوانی کی اس امیر دوست سے ملاقات ہوئی تو اس نے اپنی زندگی کی کہانی رو روکر اس کے دامن میں ڈال دی۔

اس دوست نے اسے بتایا کہ وہ امیر تھی تو اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ اصلی ہیروں کا ہار پہن کر کالج آتی تھی۔ وہ ہار نقلی تھا۔ اگر وہ اسکے گم ہونے کا اسے بتا دیتی تو شاید اس کی زندگی بہت مختلف گزرتی۔

اس کہا نی میں بہت سے سبق ہیں مگر بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے اپنے حصے کے سبق اخذ بھی خود کریں اور ان پر عمل بھی۔

2019-01-14T23:14:16+00:00 Life|