داداجی

Home/Life/داداجی

داداجی

یہ اس بلاگ کی آخری چند پوسٹس ہیں۔ دادا جی کے تذکرہ کے بغیر بات ادھوری رہے گی۔ ۔ انہوں نے جو سکھایا اور بتایا وہ سمجھنے کے لیئے صدیاں درکار ہیں۔

 تمام عمر سفید لباس پہنا۔ گاوٗں میں رہ کر سفید لباس۔ ان کی ہر چیز بادشاہوں جیسی تھی۔ ہر چیز۔ کم گو تھے مگربیٹھک میں جہاں وہ شب و روز گذارتےوہاں ہر وقت میلے کا سا سماں لگا رہتا۔ 

ان کے شاگرد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ اگر سو رہے ہوتے تو دور دور سے بظاہر بڑے بڑے عہدوں والے لوگ انہیں جگانے کی بے ادبی کیئے بغیر ان کے بیڈ کے پاوٗں کی طرف ہاتھ لگا کر خاموشی سے چلے جاتے۔ 

ہم بچوں کے ہاتھ سے کوئی چیز ٹوٹ جاتی تو خوش ہوتے۔ فرماتے کہ چیزیں تبھی ٹوٹتی ہیں جب گھر میں بچے کھیلتے ہیں۔ ان کے پاس ہر وقت پتاسے اور مصری ہوتی جو وہ ہم بچوں میں بانٹتے رہتے۔ بڑوں کو سمجھاتے کہ بچوں کو علم و فن کےاس شعبے میں جانے دو جہاں ان کا شوق ہے۔ 

ایک دن بچوں کی ضد پر شہر آٓئے ہوئے تھے۔ گھر میں کچھ کام ہو رہا تھا۔کہیں فجر کو اٹھے تو ٹھوکر کھا کر گر گئے۔ ان کے پاوٗں کی انگلی ٹوٹ کر لٹک گئی۔ انہوں نے خود ہی چادر کا کونا پھاڑ کر اس کو باندھ لیا۔ صبح جب پٹی دیکھ کر ان سے پوچھا تو انہوں نے ماجرا سنایا۔ پٹی کھول کر دیکھا تو کھلا ہوا زخم تھا اور انگلی ٹوت کر لتک رہی تھی۔ پوچھا کہ آپ نے کسی کو آواز کیوں نہیں دی تو کہنے لگے تم لوگوں کے آرام میں خلل ڈالنا مجھے اچھا نہیں لگا۔ 

میں نے وہ زخم دیکھا تھا اور آج تک صرف سوچ کر ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ دوڑ جاتی ہے۔ 

وہ محبتوں کی بارش تھے۔ جو بھی ان کی پاس سے گزرا کچھ لے کر ہی گیا۔ اکثر سمجھاتے کہ محبت اونچائی سے گرنے والے پانی کی طرح ہوتی ہے اور زیادہ تر ایک ہی طرف کو بہتی ہے۔ بس اسے اصول ہی سمجھو۔ 

وہ بہت کچھ سکھانے کی کوشش کرتے مگر لینے والے سب میری طرح کے۔ پورے نہیں تو آدھے اندھے۔ صرف ایک پات تحریر کیئے دیتا ہوں۔ فرماتے تھے۔ پیسے کے لیئے پریشان نہیں ہوتے۔ جب کسی کو دینے ہوں تو یہ بس کہیں نہ کہیں سے آجاتے ہیں۔ بات سادا بھی تھی اور مکمل بھی مگر ان کی اور بہت سی باتوں کی طرح اس کو سمجھ آتے زندگی کے بہترین دن گزر گئے۔ یہ پیسے،خوشیاں،محبتیں آسانی سے صرف ان کے پاس آتے ہیں جنہیں انہیں دوسروں کو دینے کا ہنر آتا ہے۔ مجھ جیسے جن کو فقط میں میں کی پڑی ہے یہ زندگی انہیں اپنی کچھ خیرات دینے سے پہلے بھگاتی بھی ہے، تھکاتی بھی اور کبھی کبھی رلاتی بھی۔

Dear Son, you will often hear that love should be unconditional. At times we all forget the rules and expect otherwise. What you have read above is something that I have tried to implement for longer than I can remember but on 30th of October an incident made me rethink. I realised that I have failed long time ago. When a father or a mother or anyone else for the matter is expecting for example just a phone call then is that really unconditional? Secondly, everyone gives according to their capacity in the role. Who is to judge what is enough?

In essence, Love unconditionally and if you are hurt, put a dressing by yourself.

“Just Another Walk.”( 30 October 2018)

2018-11-02T12:33:06+00:00 Life|