درخت، بچہ اور باپ

Home/Learn/درخت، بچہ اور باپ

درخت، بچہ اور باپ

جولیس قیصر کا کہنا ہے کہ کسی ایسے شخص کو ڈھونڈنا یقینا بہت آسان ہے جو رضا کارانہ جان کی بازی لگانے کو تیار ہو،  البتہ ایسوں کی تلاش کافی مشکل ہے جو صبر کے ساتھ اذیتیں برداشت کرتے ہوں۔

اسی دنیا کے ایک چھوٹے سے علاقے میں ایک شخص کے ہاں جس دن ایک بچے کی پیدائش ہوئی، اس نے اسی دن اپنے گھر میں ایک درخت بھی لگایا۔ اس شخص نے ان دونوں یعنی اپنے بیٹے اور اس درخت کی بہترین نشو ونما  کی اور اس بات کا بھرپور خیال رکھا کہ انہیں کوئی نقصان نہ آنے اور اس غرض کے لیے اس نے ہر ممکن وسائل استعمال کیے۔

بالآخر زمانہ گزرتا گیا اور وہ بوڑھا ہو گیا ۔ درخت بہت مضبوط اور توانا ہو چکا تھا اور ہر قسم کے موسم اور ہواؤں کو خود سے جھیلنے کے ساتھ ساتھ  سورج کی گرمی سے بچاؤ کے لیے دوسرے لوگوں کو ٹھنڈا سایہ بھی فراہم کرتا اور صرف اسی پر اکتفاء نہیں بلکہ پکے ہوئے ذائقے دار پھل بھی دیا کرتا جو کھانے والوں کے سرور و لطف کو دو بالا کرتے ۔ وہ بوڑھا شخص درخت کے سائے تلے بیٹھا اکثر اوقات اس درخت باتیں کرتا دکھائی دیتا۔ لیکن ان دونوں کی یہ عجیب دوستی عام لوگوں کی سمجھ سے بالکل باہرتھی ۔

اس کے بر عکس اس بوڑھے شخص کا بیٹا عموما اپنی زندگی کے مسائل اورالجھاؤ میں گھرا دکھائی دیتا وہ بارہا اپنے والد سے بھی شکوہ و شکایات کیا کرتا لیکن بوڑھا شخص کوئی جواب دیے بغیر اپنے بیٹے کے گلے شکوے خاموشی سے سنتا رہتا۔ ایک دن جب اس کا بیٹا اس کے سامنے اپنی مصیبتوں کا رونا رو رہا تھا تو بوڑھا شخص نے اس کا ہاتھ  پکڑا اور اسے گھر کے باغ میں اسی درخت کے پاس لے گیا اور وہاں لے جا کر اسے کہنے لگا کہ میں نےتم دونوں کی پرورش کی اور اس میں کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ لیکن مجھے احساس ہے کہ یہ درخت اور شاید دوسری بھی بہت سی مخلوق وہ بات جانتی ہے جس تک  بہت سے انسانوں کی پہنچ نہیں۔ بیٹے نے حیرانگی سے پوچھا کہ ایسی کیا بات ہے جو یہ درخت تو جانتا ہے لیکن ہم انسان اس سے غافل ہیں؟

باپ نے بتایا کہ کسی وقت یہ درخت اتنا کمزور اور محتاج تھا کہ  مختلف موسموں اور آندھیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا  چنانچہ یہ اپنی بقا کے لیے کسی حد تک حفاظت کا محتاج تھا۔ لیکن جیسے جیسے یہ بارشوں، دھوپ اور آندھیوں کا سامنا کرتا رہا ویسے ویسے مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا گیا اور اب اس قدر  طاقتور ہو گیا ہے کہ نہ صرف دوسروں کی مدد کے بغیر  ہر مصیبت کو جھیل لیتا ہےبلکہ اپنی حفاظت کرنے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو میٹھے پھل اور چھاؤں کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے۔

باپ کی یہ باتیں بیٹے کی سمجھ سے ابھی بھی باہر تھیں، اس نے کہا کہ میں آپ کی بات سمجھ نہیں پایا۔

باپ نے جواباً اسے سمجھاتے ہوئے کہاکہ بیٹا! آپ جسمانی طور پر تو اس درخت کی طرح بڑے  ہو چکے لیکن مرد بننے کے  لیے  اس جسمانی نشوونماسےبڑھ کر  اور بھی بہت سی چیزیں ہیں جنھیں سیکھنا انتہائی ضروری ہےاور اس کا طریقہ صرف یہی ہے کہ بچپن میں جن چیزوں سے میں نے  تمھیں تحفظ فراہم کیا اب تمھیں اپنے طور پر ان چیزوں کا مقابلہ  ثابت قدمی کے ساتھ کرناہوگا اور اسی پر بس نہیں بلکہ خود کو اس قابل  بھی بنانا ہوگا کہ بہت سے دوسرے لوگوں کی ضرورت  پر ان  کے بھی کام آ سکو۔

بیٹا کچھ دیر خاموش رہا اور پھر اس نے کہا کہ کیا اس کا کوئی آسان راستہ بھی ہے؟

باپ نے اپنے بیٹے کو غور سے دیکھااور مسکراتے ہوئے بولا، نہیں۔

دوسرے راستے پر تو تم پہلے ہی چل رہے ہو، شکایتوں اور الزامات کا وہ راستہ جس پر وقت تو گزر جا تا ہے مگر کبھی کوئی قابل خاطر منزل نہیں آتی۔

باپ نے کچھ لمحے توقف کیا اور پھر بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اس درخت کی طرح آفات کا مقابلہ کرو اور پھران مقابلے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے جاؤ۔

باپ نے یہ کہا اوربیٹے کو گہری سوچ میں گم چھوڑ کر چلا گیا۔

2020-10-14T15:51:14+00:00 Learn|