شاھ بھائی

Home/Life/شاھ بھائی

شاھ بھائی

میں نیا نیا کراچی سے لندن آیا تھا، ہمہ یاراں برزخ کے دن تھے۔ دوستوں کے ساتھ  لندن کے مشہور پل کے پاس بہترین جگہ پر واقع ایک فلیٹ میں رہائش تھی۔ فلیٹ کا سائز مناسب تھا مگر رہنے والے زیادہ۔ سب نوجوان۔ زندگی بھی زندہ۔ میلہ سا لگا رہتا۔ سب کو جلدی تھی ہر چیز کی۔ شاید زندگی ہمارے اختیار میں ہوتی تو ہم زندگی کے ہر مرحلے سے گزر کر اس کی سانسیں تمام کر بیٹھتے مگر صد شکر کہ زندگی کو خود کوئی جلدی نہیں۔ اس کے اپنے کچھ اصول ہیں، جو بدلتےنہیں۔

اسی فلیٹ میں ایک دوست سے ملنے  ان کے ایک کزن، شاہ بھائی  آیا کرتے۔ شاہ بھائی سیلف میڈ آدمی تھے۔ کرکٹ کھیل کر تعلیم کے لیے پیسے اکٹھے کرتےکرتے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ بالآخر  وہ دنیا کے کئی ملکوں میں مختلف شعبوں سے منسلک ہوئےاور ایک مغربی ملک نے انہیں ڈپلومیٹک  پاسپورٹ سے بھی نوازا۔ وطن عزیز  کے اکثر لوگ اتنی بار ٹیکسی اور رکشہ میں نہیں بیٹھتے جتنی بار وہ جہاز میں بیٹھا کرتے۔ ہم انہیں سامان دیا کرتے کہ آتے جاتے کراچی چھوڑ دیں۔ یہ ہمارے پیاروں کے لیئے تحائف پر مشتمل ہوتا۔ میں اس بے راہ روی کا شکار تھا جو ماں اور خصوصاً باپ پاس نہ ہو تو انسان کا مقدر بنتی ہے۔ فیصلے تو کرنا تھے مگرزندگی ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں کی تصویر بنی  ہوئی تھی، ادھر  ادھر کی نوکری سے گزارہ ہوتا۔

ایک دن شاہ بھائی آئے تو کہنے لگے کچھ بات کرنی ہے۔ میں نے کہا فرمائیے۔اس گفتگو کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔ پوچھنے لگے : تمہیں پتا ہے تم کیا کر رہے ہو؟ میں چپ رہا، نہ سچ بول سکتا تھا نہ جھوٹ۔ کہنے لگے تم اپنے آپ کو ضایع کر رہے ہو۔ یہ چیزیں جو ادھر ادھر کی نوکریوں سے پیسے اکٹھے کر کے گھر بھیجتے ہو اس سے انہیں تو شاید وقتی خوشی ملتی ہو مگر تم جانتے ہو کہ یہ اشیاٗ تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کی راحت کا سبب نہیں۔ کیا تم جانتے ہو اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ میں چپ رہا کہ مقام سیکھنے کا تھا۔ کہنے لگے اب سے کچھ دن بعد وہ سب لوگ اپنی زندگیوں میں مگن ہو جائیں گے۔

 اگر آج تم نے زندگی کی ڈور اپنے ہاتھ میں نہ لی تو ایک وقت وہ آئے گا جب تم  بہت اکیلے رہ جاؤ گے۔ جن لوگوں کے واسطےسب لٹا رہے ہو کل یہ تمہیں اچھے نہیں لگیں گے۔ کچھ دن صبر کر لو اور مزید تعلیم حاصل کرو۔ اس کے نتیجے میں آنے والے کل تم اپنے آپ کو بہتر جگہ پائو گے۔ رشتے بھی بچ جائیں گے، ان کی خوبصرتی بھی اور چاہو گے تو مدد بھی زیادہ لوگوں کی کر پائو گے۔ 

وہ تو چلے گئے مگر ان کی باتیں مجھے آج بھی یاد ہیں۔ یہ باتیں میں نے اس وقت نہیں مانیں مگر خلوص سے کہی گئی تھیں،  کہیں نقش ہو گئیں۔

 زندگی کی مشین بہت ہی مؤثرہے یہ اپنے آپ کو ضائع کرنے والوں کا ساتھ ضائع کرنے میں دیتی ہے اور بنانے والوں کو بنانے میں۔ اپنے وقت اور صلاحیتوں کا صحیح استعمال ہمارےاپنےاختیار میں ہے۔ اور جو نہ کریں تو شکوہ کیوں؟ 

2018-06-05T00:53:28+00:00 Life|