عمران عارفین

Home/Life/عمران عارفین

عمران عارفین

ہم دونوں میدیکل کالج کے زمانے سے وہ دوست تھے کہ جن کا ملنا کم مگر کوئی تار کہیں ہمیشہ جڑا ہوتا ہے۔

ہمارا زندگی کا سفر، آنکھ مچولی کھیلتا رہا۔ اس نے امریکہ کے امتحان پاس کیے مگر نوکری برطانیہ میں کی۔ میں نے بھی۔ اس نے بھی پہلےسرجری کی، پھر فیملی ڈاکٹر بن گیا۔ میں بھی انجانے میں اس کے قدموں کے نشان پر پیر رکھتا رہا۔

ملک ایک تھا، شہر جدا۔ دعوتوں پر ملاقات ہوتی ۔ ایک دن شام میں کام سے واپس آ کر بیٹھا ہی تھا کہ عمران کا فون آیا۔ حال احوال کے بعد بتایا کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔ پھر شاید اس نے کچھ کہایا نہیں، یا شاید میں نے سنا نہیں۔ میں نے کہا فون رکھو میں ابھی آتا ہوں۔ سمجھانے لگا کہ ابھی کام سے آئے ہو گھر والوں کو وقت دو۔ میرا گھر کئی گھنٹے کی مسافت ہے، چھٹی والے دن آجانا وغیرہ وغیرہ۔ 

کچھ لوگ وہ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہوتے ہیں کہ انھیں اپنے سوا سب نظر آتے ہیں۔ وہ ان ہی میں سے ایک تھا۔ میں نے فون بند کیا اور اس کے گھر کے باہر جا کر گاڑی روکی۔ وہ خود باہر آیا اور پیار سے ڈانٹنے لگا۔ تم سنتے نہیں ہو، اسی لیے میں تمہیں بتانا نہیں چاہ رہا تھا، وہ ڈانتا رہا، میں مسکراتا رہا۔

کوئی آیا، کوئی گیا۔ سب اپنے تھے، ہم اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں کرتے رہے۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ہر وقت اپنی  بات کرنا چاہتے ہیں۔ وہ ان لوگوں میں سے تھا جو اپنے علاوہ ہر ایک کے لیے پریشان ہوتے ہیں۔

میں نے بتایا کہ ایک دو چھوٹے چھوٹے پراجیکٹ شروع کیے ہیں وطن عزیز کے لیے۔ کہنے لگا تم وقت بھی دے رہے ہو اور پیسہ بھی۔ میں چاہتا ہوں تمھاری مدد کروں۔ صحت اجازت نہیں دیتی کہ وقت دے سکوں مگر اگر زندگی نے مہلت دی تو وقت بھی دوں گا۔ فی الحال  پیسے ۔۔۔۔۔۔۔میں نے دعا کا کہہ کر بات ٹال دی۔

اسے جانا تھا وہ چلا گیا۔ اس کے جنازے میں لوگ مذہب، رنگ اور نسل کی تفریق کے بغیر شریک تھے۔ اس کا دل تھا بھی تو بہت بڑا اس چھوٹی سی دنیا کے لیے۔ بکھر کر کائنات کی وسعتوں میں سما گیا۔

Important events in history of Pakistan today

http://www.tareekhepakistan.com

2018-06-05T00:54:01+00:00 Life|