فلیٹ اور سیاست

Home/Life/فلیٹ اور سیاست

فلیٹ اور سیاست

ہم اس شہر میں نئے تھے، ہوٹل میں قیام تھا. ہاسپٹل نے کچھ دن سے آدھے دن کی چھٹی دے رکھی تھی اور آج کرائے پر کوئی مناسب جگہ ڈھونڈنے کا آخری تھا۔ میں نے راستے میں ہوٹل سے شہزادی کو لیا اور اسٹیٹ ایجنٹ کے پاس پہنچا۔ جو خاتون ہمیں روزانہ گھر دکھانے لے کر جاتی تھیں انہوں نے بتایا کہ آج ہم نہیں جا سکیں گے کیونکہ آفس کی گاڑی خراب تھی۔ کچھ بحث مباحثہ کے بعد ان کے مینیجر نے انہیں ہمارے ساتھ ہماری گاڑی میں جانے کی اجازت دے دی۔ ان خاتون نے ہمیں پھر سے کچھ گھر دکھائے مگر مجھے اور شہزادی کو سمجھ نہیں آئے۔ پھر نہ جاے کیا بدلا کہ ان خاتون نے کہا کہ مجھے واپس آفس لے کر چلو مجھے ایک چابی اٹھانی ہے۔ راستے میں انہوں نے ہمیں کہا کہ یہ گھر نہیں ایک فلیٹ ہے مگر مجھے یقین ہے کہ یہ آپ لوگوں کو پسند آجائے گا۔

فلیٹ ایک ایسی سڑک پر تھا کہ جہاں عام لوگوں کا داخلہ منع تھا۔ کھلا بھی تھا، ماڈرن بھی اور نیا بھی۔ دریا کے اوپر تھا اور ایک لفٹ الگ سے صرف دریا پر جانے کے لیئے موجود تھی۔ شہزادی نے دیکھتے ہی پسند کیا اور ہم نے کچھ ماہ وہاں قیام کیا۔

سوال صرف یہ ہے کہ یہ خاتون اگر ہمیں بہتر جگہ نہ دکھا تیں تو ہم کیا کرتے؟ہم نے تو ان ہی میں سے ایک گھر یا فلیٹ کرائے پر لینا تھا جو ہمیں بتائے یا دکھائے جاتے کہ کرائے کے لیئے خالی ہیں۔ جو نہ دکھائے جاتے وہ ہمارے لیئے نہ ہونے کے برابر تھے۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس بات کا جمہوریت سے کیا تعلق ہے۔ وطن عزیز کی حد تک تو بہت ہی سادہ ہے۔ پارٹی سسٹم ہے۔ کچھ مطلق العنان پارٹی سربراہ آپ کے آگے اپنی پسند کے لوگ کریں گے۔ آپ جب ووٹ ڈالنے جائیں گے تو ان میں سے ایک کو آپ کا چنائو سمجھا اور مانا جائے گا۔ آپ دو میں سے کسی کو بھی چنیں یا نہ، صرف ٹی وی پر رزلٹ دیکھیں، مگر جب تک امیدوار چننے کا طریقہ نہیں بدلے گا وطن عزیز کا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے کہ جو بل پاس تو کر سکتے ہیں، پڑھ نہیں سکتے۔

نوٹ: پارٹی سربراہان سے التماس ہے کہ اگلے انتخابات میں امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ دینے سے پہلے ہی اگر عوام سے رائے لے لیں تو شاید وطن عزیز کی تقدیر جمہوریت کے رستے ہی بدل جائے۔

سنا ہے، گنے کا رس نکالے والی مشین میں کریلا ڈالنے سے انار کا رس نہیں نکلا کرتا۔

2018-06-05T00:52:39+00:00 Life|