نسیم وڑائچ

Home/Life/نسیم وڑائچ

نسیم وڑائچ

  لندن جانے کا دل نہیں تھا مگر کچھ قسمت اور کچھ دوست راستہ بناتے گئے اور  لندن آگیا۔ جس فلیٹ میں رہتے تھے اس کے شب و روز پریوں تو کتاب لکھی جا سکتی ہےمگر دوستوں کے منہ کے ذائقے کے لیے یہاں صرف اتنا لکھنا کافی ہوگا کہ مزے کی جگہ تھی۔ کچھ دوست پہلے سے رہتے تھے،کچھ بعد میں آگئے۔ سب اپنے تھے۔ فلیٹ مناسب سائز کا تھا مگر رہنے والے لوگ زیادہ۔ زندگی کے نظر اور نہ نظر آنے والے سب گوشے مشترک تھے۔ دکھ بھی اور سکھ بھی۔
کچھ پیسوں کی ضرورت پڑی، میں نے نسیم سے ادھار کر لیے۔ ادھار لینا واپس کرنے کے مقابلے میں ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ اس نے مانگے نہیں۔ میں نےبھی خاموشی اختیار کی۔ اسی میں فائدہ تھا۔ کافی عرصہ بعد میں نے لوٹانے کا تذکرہ کیا تو اس نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ ابھی مجھے ضرورت نہیں،جب نوکری شروع ہو جائے تو پھردے دیجیئے گا۔
راستہ لمبا تھا۔ امریکہ جانے کے لیے امتحان دیے، مگر آخر بات ویزے پر آ کر رک گئی۔ میں نے آخر کار والد صاحب کے کہنے پر انگلینڈ کے امتحان دینا شروع کیے اور پھر نسیم وڑائچ کے پاس انگلینڈ کے ایک ٹاؤن ڈڈلی آگیا۔ یہاں اس نے مجھے اپنے فلیٹ میں جگہ دی اور امتحان پاس کرنے میں مدد بھی کی۔ اس کے بعد میری پہلی نوکری     ملک میں اس ہی کی تگ و دو کا نتیجہ تھی۔ پہلی تنخواہ آگئی، میں نے نسیم وڑائچ کے پیسے اس کے آگے رکھ دیے۔ وہ مسکرایا اور بولا:” ڈاکٹر صاحب کیاسمجھ رکھا ہے؟
  میں نے وضاحت چاہی تو بولا پہلی تنخواہ ہے، یہ اٹھا کر ماں باپ کو بھیج دیں اس میں نہ آپ کا حق ہے نہ میرا،بہت برکت ہوگی۔
  آگے چل کر اس نے میری شرم رکھنے کے لیے پیسے قبول کر لیے مگر پھر کبھی زندگی میں اگر مجھے کسی سے واپس مانگنے پڑے تو میرے نفس نے مجھے ملامت
بہت کی کہ بس چار دن میں تھک گئے۔ ذرا نسیم وڑائچ کو دیکھو۔ بسا اوقات تو بات یہاں تک بڑہی کہ اپنے نفس کو کہنا پڑا کہ میں نسیم وڑائچ نہیں ہوں! تب کہیں جا کر کچھ یر کو خاموشی ہوئی۔
2018-08-11T15:26:11+00:00 Life|