نہیں. ناں

Home/Life/نہیں. ناں

نہیں. ناں

آخری پوسٹ میں لفظ بدلنے کا تزکرہ ہوا تھا۔ یہ کہنے سے شعوری طور پر اجتناب کیا تھا کہ یہ الفاظ استعمال نہ کریں۔ اس لفظ نہیں سے انسان کا رشتہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود انسان۔ ایک جنت میں سب جائز تھا مگر ایک درخت نہیں اور پھر حضرت انسان نے جو کیا وہ آج بھی اس غلطی کو ایسے دہراتا ہے جیسے اسے کچھ علم ہی نہیں۔ لفظ نہیں اور اس طرح کے سارے لفظ بہت سخت ہیں اور ہمارے دل و دماغ کو کچھ ایسی جگہ لے آتے ہیں کہ جہاں حضرت انسان ایک عجیب کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

 میں تمہاری جگہ ہوتا تو یہ کام ایسے کرتا یا مشورہ کرلیں پھر بات کرتے ہیں اور اس طرح کے بہت سے جملے  جہاں مناسب ہو استعمال کریں اور جہاں تک ممکن ہو سکے اس لفظ نہیں کے استعمال سے بچیں۔ کہنے والے تویہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے دماغ میں لفظ نہیں کی کوئی جگہ ہے ہی نہیں۔ جب ہم کسی سے یا اپنے آپ سے یہ کہتے ہیں کہ فلاں کام اب نہیں کرنا ہے تو دماغ پہلے اس کام کے ہوتے ہوئے کی تصویر بناتا ہےاور پھر آگے نہیں لگاتا ہے۔

شاید پروین شاکر نے کہا تھا کہ  وہ اب یاد بھی آتا ہے تو کام کے بعد۔ ظاہر ہے کہ جھوٹ کہا تھا مگر کس قدر خوبصورت جھوٹ ہے ۔ ہمارا تو مذہب بھی کڑوے سچ اور میٹھے جھوٹ کا وزن برابر نہیں کرتا۔ کبھی لفظ بدل کر تو دیکھیں۔

2018-06-05T00:48:48+00:00 Life|